Thursday, 1 October 2015

وزیراعظم نوازشریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس سے خطاب

وزیراعظم نوازشریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس سے خطاب
radio


وزیراعظم محمد نوازشریف نے دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے بنیادی اسباب دور کرنے کیلئے بھارت کے ساتھ چار نکاتی امن اقدام تجویز کیا ہے جبکہ بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے سے گریز کرے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ ہمارا قریبی ہمسایہ پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے سے اجتناب کرے۔ دونوں ممالک کو کشیدگی کے اسباب پر توجہ دینا اور انہیں حل کرنا چاہئے اور مزید کشیدگی سے بچنے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ وزیراعظم نے 193 رکنی جنرل اسمبلی کے 70 ویں اجلاس میں شریک عالمی رہنمائوں کے روبرو اپنے خطاب میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر اور کشیدہ صورتحال کے علاوہ افغانستان، دہشت گردی، فلسطین، سلامتی کونسل اصلاحات، موسمیاتی تبدیلی، اقوام متحدہ قیام امن کوششوں، بعداز2015ئ، پائیدار ترقیاتی ایجنڈے اور جنوب جنوب تعاون سمیت وسیع تر امور کا احاطہ کیا۔

وزیراعظم نے کہاکہ مسلمان دنیا بھر میں مصائب کا شکار ہیں، فلسطینی اور کشمیری غیر ملکی تسلط میں ظلم کا سامنا کر رہے ہیں، اقلیتوں پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور مسلم پناہ گزینوں کیخلاف امتیازی کارروائیاں کی جا رہی ہیں ۔ بین الاقوامی برادری کو مسلم عوام کیخلاف ناانصافیوں کا ازالہ کرنا چاہئے۔ آج اس موقع پربھارت کے ساتھ ایک نیا امن اقدام تجویز کر رہاہوں جس کا آغاز ایسے اقدامات سے کیا جائے جن پر عمل کرنا آسان ترین ہے۔ انہوں نے تجویز کیا کہ پاکستان اور بھارت کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر مکمل سیز فائر کیلئے 2003ء کی مفاہمت (انڈر سٹینڈنگ) کو باضابطہ بنائیں اور اس کا احترام کریں۔ اس مقصد کیلئے ہم سیز فائر کی پابندی کی نگرانی کیلئے یو این ایم او جی آئی پی کی توسیع پر زور دیتے ہیں۔ ہم تجویز کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت اس امر کا اعادہ کریں کہ وہ کسی بھی حالت میں طاقت کا استعمال یا اس کے استعمال کی دھمکی نہیں دینگے۔ یہ اقوام متحدہ چارٹر کا مرکزی عنصر ہے۔ کشمیر سے فوج کے انخلاء کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ دنیا کے بلند ترین میدان جنگ سیاچن گلیشیئر سے غیر مشروط باہمی انخلاء پر اتفاق کیا جائے۔ وزیراعظم نے تنازع کشمیر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کشمیری، جو تنازع کا لازمی فریق ہیں، کے ساتھ مشاورت پرامن حل تلاش کرنے کیلئے ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ترقی میری حکومت کی اولین ترجیح اورپرامن ہمسائیگی کی تشکیل میری پالیسی کا محور ہے۔ ہمارے عوام کو خوشحالی کیلئے امن کی ضرورت ہے، امن لاتعلقی سے نہیں بات چیت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1997ء میں جب بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات کا آغاز ہوا تو دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ یہ دو بڑے اجزاء کشمیر اور امن و سلامتی کے ساتھ دہشت گردی سمیت دیگر 6 ایشوز پر محیط ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان دو ایشوز کو حل کرنے کی بنیادی اور فوری ضرورت آج پہلے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1947ء کے بعد سے کشمیر تصفیہ طلب تنازعہ رہا ہے۔ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کی تین نسلوں نے صرف ٹوٹے ہوئے وعدے اور وحشیانہ ظلم دیکھا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد کشمیری حق خودارادیت کی اپنی جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، یہ اقوام متحدہ کی سب سے دیرینہ ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے جون 2013ء میں تیسری مرتبہ وزیراعظم پاکستان کا منصب سنبھالا تو میری اولین ترجیحات میں سے ایک بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا تھا، میں اس بات پر زور دینے کیلئے بھارتی قیادت کے پاس پہنچا کہ ہمارا مشترکہ دشمن غربت اور پسماندگی ہے۔ محاذ آرائی نہیں بلکہ تعاون کو ہمارے تعلقات کو متعین کرنا چاہئے۔ آج بھی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر سیز فائر کی خلاف ورزیاں زور پکڑ رہی ہیں جس سے خواتین اور بچوں سمیت شہریوں کی اموات واقع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے اسباب کو دور کیا جانا چاہئے، ایسی امن کوششوں کے ذریعے خطرے کا تاثر دور ہونے سے پاکستان اور بھارت کیلئے ممکن ہو سکے گا کہ وہ جارحانہ اور جدید اسلحہ نظام سے لاحق خطرے سے نمٹنے کیلئے وسیع تر اقدامات پر اتفاق رائے قائم کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا میں نہ تو اسلحہ کی دوڑ کا خواہاں ہے اور نہ ہی اس میں شریک ہے۔ تاہم ہم اپنے خطے میں ابھرتی ہوئی سیکیورٹی حرکات اور اسلحہ کے ذخائر سے غافل نہیں رہ سکتے جو ہمیں اپنی سلامتی برقرار رکھنے کیلئے ضروری اقدامات اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ ایک ذمہ دار جوہری ریاست کی حیثیت سے پاکستان جوہری تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلائو کے مقصد کی حمایت جاری رکھے گا، ہم نے جوہری سلامتی کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھا ہے اور جوہری سہولیات اور ذخائر کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے موثر نظام قائم کر رکھا ہے۔ جنوبی ایشیا کو سٹرٹیجک استحکام کی ضرورت ہے اور اس کیلئے جوہری ضبط و تحمل، روایتی توازن اور تنازعات کے حل کیلئے سنجیدہ بات چیت کی ضرورت ہے۔ ہم جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی کے تابناک دور کی تشکیل کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں، یہ ہمارے اوپر ہمارے عوام اور آنے والی نسلوں کی طرف سے ایک ذمہ داری ہے۔

افغانستان کے بارے میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کابل میں قومی یکجہتی حکومت کے آغاز کے بعد مثبت تبدیلی آئی ہے۔ افغان حکومت کی درخواست پر اور بین الاقوامی برادری کی حمایت سے پاکستان نے افغان مصالحت کے عمل میں سہولت دینے کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں۔ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا جو ایک بے مثال پہل قدمی تھی لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض پیش ہائے رفت نے اس عمل میں رکاوٹ پیدا کی، بعد ازاں شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی آئی جس کی ہم دو ٹوک مذمت کرتے ہیں ۔ پاکستان مذاکراتی عمل کی بحالی اور افغانستان میں امن و استحکام کے فروغ میں مدد کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاہم ہم اسی صورت میں ایسا کر سکتے ہیں اگر ہمیں افغان حکومت سے مطلوبہ تعاون حاصل ہو، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تنائو، ان میں سے کسی ایک کے مفاد میں نہیں ہے۔ ہمیں حوصلہ ملا ہے کہ بڑی طاقتوں سمیت بین الاقوامی برادری افغانستان میں امن کے عمل کے تسلسل کی خواہاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان اور ہمارے خطے میں امن اور خوشحالی کے فروغ میں چین کے فعال کردار کو سراہتا ہے، ہم ''ایک پٹی، ایک شاہراہ'' کے چین کے وژن کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ چین کے صدر شی چن پنگ کے اس سال کے آغاز میں پاکستان کے دورے کے دوران اعلان کردہ پاک چین اقتصادی راہداری سے علاقائی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا اور پورے خطے اور اس سے باہر خوشحالی آئے گی، یہ جنوب جنوب تعاون کی ایک متاثر کن مثال ہے جس کی پیروی کی جانی چاہئے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ ہم ایشیائی تعاون پر روس کی وسیع تر توجہ کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم، جس میں پاکستان ایک مکمل رکن کی حیثیت سے اس سال شامل ہو گا، علاقائی رابطے کے فروغ کیلئے عظیم عزم کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا مواقع کو کھو دینے کی تاریخ کا حامل ہے، اس کے خوفناک نتائج میں ہمارے علاقے میں غربت اور محرومی کا مسلسل موجود رہنا ہے۔

دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کا بنیادی نشانہ ہے، ہم نے دہشت گردی کے باعث شہریوں اور سپاہیوں سمیت ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، معصوم بچوں سمیت ہمارے بہنے والے خون نے ہمارے معاشرے سے اس لعنت کے خاتمے کے ہمارے عزم کو اور زیادہ تقویت دی ہے۔ ہم ہر قسم کی دہشت گردی سے لڑینگے، قطع نظر اس کے کہ اس کے سہولت کار کون ہیں ۔ ہمارا آپریشن ضرب عضب دہشت گردوں کیخلاف سب سے بڑی انسداد دہشت گردی مہم ہے جس میں ہماری ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد سیکیورٹی فورسز شریک ہیں۔ اس نے دہشت گردوں کا ملک سے صفایا کرنے میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے اور یہ آپریشن اس وقت ہی مکمل ہو گا جب ہمارا مقصد پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کو ہمہ جہت قومی لائحہ عمل کی معاونت حاصل ہے، یہ پرتشدد انتہا پسندی کے انسداد کیلئے پولیس اور سیکیورٹی اقدامات، سیاسی اور قانونی اقدامات اور سماجی و اقتصادی پالیسی پیکیجز کا احاطہ کرتا ہے ۔ دہشت گردی کے عالمی خطرے کو اس کے بنیادی اسباب کا ازالہ کئے بغیر شکست نہیں دی جا سکتی، غربت اور جہالت اس مسئلے کا حصہ ہیں، انتہا پسندانہ نظریات کی ضرور مخالفت ہونی چاہئے تاہم دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کیخلاف ظلم اور ناانصافی کے متعدد واقعات کے منصفانہ حل کے ذریعے دہشت گردوں کے بیانیہ کا بھی انسداد کرنا ہو گا، بدقسمتی سے بعض دہشت گردی کیخلاف عالمی مہم کو مقبوضہ عوام کے حق خودارادیت کے جائز حق کو دبانے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ آج مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کا ابھرنا اور پھیلنا غیر معمولی سیکیورٹی چیلنجز کا حامل ہے۔ تشدد کی لہر، لسانی اور فرقہ وارانہ تنازعات اور داعش کے ابھرنے سے خطے کے کئی ممالک آج تصادم اور عدم استحکام کے گرداب میں ہیں جبکہ دیگر اس میں پھنستے جا رہے ہیں۔ فلسطین کا المیہ شدت اختیار کر گیا ہے، فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کا قابل قبول راستہ، دو ریاستی حل، قابض قوت کے ہٹ دھرمی کے رویئے کی وجہ سے آج پہلے سے زیادہ دور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کی گزشتہ ماہ منظوری کے بعد اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹر میں فلسطینی پرچم لہرانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جبکہ میں مخاطب ہوں اس ہال کے باہر قابل فخر فلسطینی پرچم لہرا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ اس جانب پہلا قدم ہے، ہم اقوام متحدہ کے مکمل رکن کی حیثیت سے فلسطین کا خیر مقدم کرنے کے منتظر ہیں۔

سلامتی کونسل کے اصلاحات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 70 ویں سالگرہ کے موقع پر ہم سب کو درپیش موجودہ اور ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے موثر طور پر نبردآزما ہونے کیلئے اس عالمی تنظیم کو مناسب طور پر ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ پاکستان سلامتی کونسل سمیت اقوام متحدہ کی جامع اصلاح کی حمایت کرتا ہے۔ ہمیں ایک ایسی سلامتی کونسل کی ضرورت ہے جو زیادہ جمہوری، نمائندہ، جوابدہ اور شفاف ہو، ایک ایسی کونسل جو خود مختاری، برابری کے اصولوں کے مطابق تمام رکن ممالک کے مفادات کی عکاس ہو، ایک ایسی کونسل نہیں جو طاقتور اور مراعات یافتہ کا توسیع شدہ کلب ہو۔ قیام امن اقوام متحدہ کی ایک کلیدی ذمہ داری رہی ہے ۔ پاکستان کو اس میں سب سے زیادہ حصہ لینے والے ملک کی حیثیت سے اپنے تاریخی اور موجودہ کردار پر فخر ہے، ہم بین الاقوامی امن اور سلامتی کی بالادستی کیلئے اسے اپنا فرض تصور کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم ایران اور پی 5 پلس ون کے درمیان طے پانے والے جامع جوہری معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی رابطے اور کثیر الجہتی نظام سے مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے، یہ ہمارے خطے اور اس سے باہر امن و سلامتی کیلئے نیک فال ہے۔ وزیراعظم نے پائیدار ترقیاتی اہداف کی تاریخی منظوری کے بارے میں کہا کہ حقیقی چیلنج اجتماعی سیاسی عزم اور وسائل کو حرکت میں لانا ہے تاکہ اس ایجنڈے پر جامع عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے جس کی ہم نے پرعزم طور پر توثیق کی ہے۔ پاکستان بعداز 2015ء ترقیاتی ایجنڈے کے فروغ کیلئے قومی اہداف کے بارے میں عمل کا آغاز کر چکا ہے، ہم ان اہداف اور مقاصد کی نگرانی اور عملدرآمد کیلئے مضبوط نظام بھی تشکیل دے رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی سے لاحق خطرے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مشترکہ عزم کے راستے میں جانبدارانہ مفادات حائل نہیں ہونے چاہئیں تاکہ ہمارے کرہ ارض کو پہنچنے والے نقصانات کو روکا جا سکے۔